Markazi Jamiyat Ahle Hadith Pakistan
جماعتی خبریں

غداری کا مقدمہ مولانا فضل الرحمن پر نہیں عمران خاں پربنتا ہے۔ علامہ ساجد میر

مرکزی جمعیت اہل حدیث  پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے غداری کا مقدمہ مولانا فضل الرحمن پر نہیں عمران خاں پربنتا ہے۔عمران خاں نے دھرنے میں عوام کو بغاوت پر اکسایا اور سول نافرمانی کی تحریک چلائی۔ طاقت دکھا کر غیر آئینی طریقے سے حکومت گرانے کی سازش  عمران خاں نے کی۔ لہذا سنگین بغاوت کا جرم وار تو عمران خاں ہے۔فیصلہ عدالت سے کروالیا جائے۔عمران خاں کی طرف سے مولانا فضل الرحمن پر غداری کے مقدمہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ مولانا کا آزادی مارچ سازش نہیں تھا بلکہ عمران خاں کا دھرنا سازش تھا۔ عمران خاں کے دھرنےمیں آئین کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور جمہوریت کمزور ہوئی۔

مولانا کے مارچ سے جمہوریت مضبوط اور آئین کی پاسداری کی گئی۔عمران خان کے دھرنے اور مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔عمران خاں نے سول نافرمانی کرکے قوم کو بغاوت پر اکسایا جبکہ مولانا نے کسی کو بغاوت پر نہیں اکسایا،عمران خاں کے جرائم کی تعداد زیادہ ہے۔ لہذا غداری کا مقدمہ عمران خاں پر درج ہونا چاہیے۔ عمران خاں دھرنے کے دوران چوہدری نثار سے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔

عمران خان اسلام آباد فتح کرنے کے لیے آئے تھے تو دھاندلی کا الزام لگایا تھا مولانا صاحب نے بھی مبینہ انتخابی دھاندلی ہی کو بنیاد بنا کر مارچ کیا۔ عمران نے بھی وقت کے وزیراعظم کا استعفیٰ مانگا تھا  اور مولانا نے بھی وقت کے وزیراعظم سے استعفے مانگا۔عمران خان کا دھرنا آبپارہ چوک تک قانونی تھا لیکن وہاں سے آگے بڑھنے کے بعد غیرقانونی ہو گیا تھا لیکن مولانا کا دھرنا پشاور موڑ پررہا اور وعدے کے مطابق شرکا آگے نہیں بڑھے اور جمہوری اور قانونی انداز اختیار کیا۔

عمران کے دھرنے میں پولیس افسران کو مارا پیٹا گیا اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دی جاتی رہیں لیکن مولانا کے دھرنے میں کسی سپاہی کے ساتھ بھی بدتمیزی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔عمران کے دھرنے میں سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے لٹکائے اور پارلیمنٹ پر حملے کئے گئے لیکن مولانا کے دھرنے میں ان اداروں کے احترام اور وقار پر زور دیا گیا۔

عمران کے دھرنوں میں پی ٹی وی اور جیو ٹی  پر حملہ کیا گیا لیکن مولانا کے دھرنے میں ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔عمران کا دھرنا اسکرپٹ کا نتیجہ  تھا لیکن مولانا کے دھرنے پر ایسا کوئی الزام نہیں لگا سکا۔  عمران کے دھرنے میں امپائر کی طرف اشارے کا تاثر دیا جاتا تھا لیکن مولانا کے دھرنے میں صورتحال اس کے بر عکس تھی۔عمران خان کے دھرنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان جمہوری قوتوں کو ہوا تھا۔ مولانا کے دھرنے کے نتیجے میں جمہوری قوتوں میں جان آگئی.۔

Related posts

پیمرا میڈیا پر سیاسی مخالفین پر پابندیاں عائد کرتا ہے

admin@ah

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ میرٹ پر آیا تو پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ نااہل ہو جائیں گے۔

admin@ah

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر کی میڈیا سے گفتگو

admin@ah